گفتار دلنشین


اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے بانی و چیئرمین انجینئر حسین شاہ موسوی کا تعلق اندرون سندھ کے ضلع خیرپور کے گاؤں بوزدار سے ہے، انہوں نے الیکٹرونکس میں ایم ایس کی ڈگری حاصل کی ہے، خاندانی ماحول کیوجہ سے وہ بچپن سے ہی دین کیجانب مائل ہوگئے تھے، 70 کی دہائی کے آخر میں کالج کے زمانے میں اپنے گاؤں میں تنظیم اصغریہ کے نام سے جوانوں کی ایک تنظیم بنائی، پھر یونیورسٹی میں آئے تو اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے تنظیمی فعالیت کا آغاز کیا، جسکے وہ 1984ء میں مرکزی صدر بھی رہ چکے ہیں، 1985ء میں انہوں نے اصغریہ اسٹوڈنٹس سے فارغ ہونیوالے نوجوانوں کیلئے اصغریہ گریجویٹس آرگنائزیشن بنائی، جو آگے چل کر اصغریہ آرگنائزیشن میں تبدیل ہوگئی، شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کے مکمل دور قیادت میں ان سے وابستہ رہے، منصب قیادت پر فائض ہونے کے بعد شہید قائد پہلے بار اندرون سندھ کے علاقے گمبٹ آئے تھے، وہیں پر انکی قائد شہید سے ملاقات ہوئی اور وہیں سے وہ ان سے تا شہادت وابستہ رہے، سندھ میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے تنظیمی سیٹ اپ میں مسلسل حصہ رہے، مختلف تنظیمی عہدوں پر ذمہ داریاں انجام دیں۔ ”اسلام ٹائمز“ کا انجینئر حسین شاہ موسوی کیساتھ لاپتہ شیعہ افراد سمیت ملی مسائل، انکے حل، ملی تنظیموں کی فعالیت و صورتحال، اصغریہ علم و عمل تحریک کی فعالت و دیگر موضوعات کے حوالے سے کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی سمیت دیگر لاپتہ شیعہ افراد کی گمشدگی یا اغوا کے پس پردہ عوامل کیا سمجھتے ہیں۔؟
انجینئر حسین شاہ موسوی: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ بنیادی طور پر تو مسئلہ وہی ہے کہ پاکستان میں وہابی لابی ہر جگہ چھائی ہوئی ہے ابھی تک، جسے تشیع پاکستان کی بہت ساری چیزیں پسند نہیں ہے، اسٹیبلشمنٹ ہو یا کہیں اور وہابی لابی شیعوں کو پسند نہیں کرتی، انہیں کا یہ کام ہے، ہمارے جو کام انہیں پسند نہیں ہیں، یا ان کے مفادات میں نہیں ہیں، یا ہمارے جن کاموں سے ان کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے، انہیں کاموں کے حوالے سے وہ مختلف طریقوں سے ملت تشیع پاکستان کو نشانہ بناتے ہیں، کبھی ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے، کبھی لاپتہ کر دیتے ہیں، کبھی اندرونی طور پر حملہ ہوتا ہے، کبھی بیرونی طور پر تشیع پر حملہ ہوتا ہے۔ درحقیقت تشیع جو پوری دنیا میں تیزی سے ابھر رہی ہے، اسی تشیع کو پاکستان میں دبانے کیلئے وہابی لابی مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے، لاپتہ شیعہ افراد کا معاملہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔ ملت تشیع نے پاکستان میں آج تک ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے، جو ملکی سالمیت، بقاء، سلامتی و مفادات کے خلاف ہو، پاکستان کے حوالے سے ملت تشیع کا کردار کبھی بھی منفی نہیں رہا ہے، البتہ ملت تشیع کچھ مسائل کے حوالے سے مقتدر قوتوں سے اختلاف ضرور رکھتی ہے، لیکن ان اختلافات کو ملکی سلامتی کے خلاف سمجھنا مناسب نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنا علمی مرکز قم و نجف کو سمجھتے ہیں، لیکن ہم نے کبھی ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے کہ جو ملکی مفادات سے ٹکراتا ہو، تاریخ گواہ ہے کہ ملت تشیع نے ملکی مفادات کو ہمیشہ سب سے آگے رکھا ہے۔

اسلام ٹائمز: لاپتہ شیعہ افراد کے مسئلے کا کیا حل پیش کرینگے۔؟
انجینئر حسین شاہ موسوی: ہمیں اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ دنیا میں کمزور کا کوئی نہیں ہوتا، کمزور کی کوئی نہیں سنتا، لہٰذا ہمیں سب سے پہلے قوت کی ضرورت ہے، طاقتور ہونے کی ضرورت ہے، یہ قوت مختلف شکلوں میں ہوتی ہے، سیاسی، اقتصادی، افرادی، اتحاد کی قوت ہوتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ جو دوسری چیز ہے، وہ قیادت کی فہم و فراست ہے، جو طاقت و قوت کو صحیح سمت دیتی ہے، بروقت طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ لازم ہے کہ عوامی شعور بھی ہو، اس وقت ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ ان تینوں چیزوں میں کمی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس قوت نہیں ہے، قوت ہے، سیاسی بھی ہے، اقتصادی بھی ہے، لیکن یہ قوت ایک جگہ جمع نہیں ہے، فہم و فراست کا معاملہ بھی اسی طرح ہے، عوامی شعور کی کمی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے، اس کو اگر ہم بہتر کرینگے، تو باقی اوپر کی چیزیں اور مسائل بھی حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔

اسلام ٹائمز: ملت تشیع پاکستان کو اسوقت کن مسائل کا سامنا ہے اور انکا حل کیا پیش کرینگے۔؟
انجینئر حسین شاہ موسوی: اگر ہم گراس روٹ سے لیں تو ہمارے دینی شعور میں کمی ہے، ہمارا دین عوامی طور پر صرف عزاداری تک محدود ہے، عزاداری میں بھی کچھ مخصوص رسومات کی انجام دہی ہے، عزاداری میں بھی پچاس سال پرانے موضوعات چل رہے ہیں، جو پچاس سال پہلے ہماری ضرورت تھے، اس لئے ہمیں موجودہ حالات کی مناسبت سے شعور نہیں دی رہی ہے، دین نہیں سکھاتی ہے، آپ بہت سارے لوگوں کو دیکھیں گے کہ جنہوں نے دو سو، پانچ سو مجالس سنی ہونگی، لیکن وضو کیسے کرتے ہیں، نماز کیسے ادا کرتے ہیں، ولایت و امامت کیا ہے، جن ذرائع سے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے، ان سب حوالے سے کچھ نہیں پتہ، اگر ہم منبر کو بہتر بنا لیں، اس پر علم، اقدار، فہم و فراست والے ذاکرین آجائیں تو اس سے عوامی شعور بہتر ہوگا، تو خود بخود اوپر والے مسائل ٹھیک ہو جائیں گے، میرا مشاہدہ یہ ہے اور کہنا یہ ہے کہ ہمیں اس کو بہتر کرنا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا قیادت کا فقدان ہی ملی مسائل کا سبب ہے۔؟
انجینئر حسین شاہ موسوی: قیادت کا فقدان ایک مسئلہ ہے، یہ سارے مسائل نہیں ہے، اگر قوم باشعور ہوتی اور دباؤ ڈالتی تو ہماری جتنی بھی قیادتیں ہیں، وہ آپس میں مل جاتی، لیکن دراصل نیچے سے عوامی دباؤ نہیں ہے، جب تک نیچے سے پریشر نہیں ہوگا، تب تک قیادت کے فقدان والا مسئلہ حل نہیں ہوگا، میں شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کے ساتھ بھی رہا ہوں، اس دور میں بھی کچھ زیادہ افراد نہیں تھے، لیکن حضرت امام خمینی اور شہید قائد ایک ایمانی جذبہ کی وجہ سے اٹھتا تھا، ہم سمجھتے تھے کہ ہم ہر جگہ چھائے ہوئے ہیں، حالانکہ چھائے ہوئے نہیں ہوتے تھے، بہت ہی مختصر افراد ساتھ ہوتے تھے، تو قیادت ایک مسئلہ ہے، لیکن اس سے بڑا مسئلہ عوامی شعور کی کمی ہے اور اس حوالے سے دینی شعور کی کمی ہے کہ دین ہے کیا، ولایت و امامت ہے کیا، جسے ہم نے صرف عزاداری کے نام پر چند رسومات تک محدود کر دیا ہے۔

اسلام ٹائمز: عوام میں شعوری بیداری خصوصاً دینی حوالے سے پیدا کرنے کیلئے کن طبقات پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔؟
انجینئر حسین شاہ موسوی: اس حوالے سے دو طبقات اہم ہیں، ایک تو علمائے کرام ہیں، جو باقاعدہ دینی علوم سیکھتے ہیں، قم و نجف کے مدارس و حوزے میں، ان علمائے کرام پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے، دوسرا طبقہ وہ ہے جو پڑھا لکھا، باشعور اور ایک حد تک بہت کچھ سمجھتا ہے دینی حوالے سے، لیکن یہ طبقہ منتشر ہے، کسی ایک جگہ پر متحد نہیں ہے، اگر اس طبقے کو ایک جگہ جمع کیا جائے، تو نیچے بھی بہتری آسکتی ہے اور اوپر بھی بہتری آسکتی ہے۔

اسلام ٹائمز: تشیع کی سربلندی و ترقی کے حوالے سے شیعہ جماعتوں کے کردار کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیا کردار و روش ہونی چاہیئے۔؟
انجینئر حسین شاہ موسوی: موجودہ صورت کوئی بہتر صورت نہیں ہے، کوئی اچھے حال میں ہم نہیں ہیں، بلکہ تنظیموں نے آہستہ آہستہ قوم کا مورال گرا دیا ہے، عوام کی تنظیموں سے امیدیں پوری نہیں ہوئی ہیں، تنظیمیں ایک نعرہ لگاتی ہیں، ہم یہ کرینگے، وہ کرینگے، وہ نہیں ہوتا، تو اس سے عوام ایک مایوسی کی صورتحال میں چلی جاتی ہے، ضرورت اس چیز کی ہے کہ جب تک ایک ملک گیر قیادت نہیں بنتی، بڑا ایک قائد نہیں آتا، کم از کم یہ ہے کہ ولایت سے منسلک و مربوط جو تنظیمیں ہیں اور ایک جگہ جمع ہونا چاہتی ہیں، ان تمام تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے، اس حوالے سے کام کیا جانا چاہیئے، جس کی میدان عمل میں ابھی کافی گنجائش ہے۔

اسلام ٹائمز: مشترکہ ملی مسائل کے باوجود شیعہ تنظیمیں مشترکہ جدوجہد کرتی نظر نہیں آتیں، کیا وجہ سمجھتے ہیں اور مشترکہ جدوجہد کیسے ممکن ہیں، کیا تجاویز دینگے۔؟
انجینئر حسین شاہ موسوی: میری نگاہ میں ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ جو بھی ہماری تنظیمیں ہیں، قیادتیں ہیں، ادارے ہیں، ان میں فہم و فراست کا کم ہونا ہے، اسی لئے اپنے تنظیمی سیٹ اپ سے باہر نکل کر نہیں سوچتے ہیں اور اکثر آپ دیکھیں وہ خود بھی مختلف اسباب کی بنیاد پر مایوس ہیں، کوئی کہتا ہے کہ قیادت اچھی نہیں ہے، کوئی کہتا ہے کہ ماحول اچھا نہیں ہے، کوئی کہتا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ و دہشتگردی ہے، لہٰذا ایک حوالے سے وہ خود بھی اپنے کام سے بھی اور دیگر کے کاموں سے بھی مایو س ہیں، میرے خیال میں اس کا بہتر حل یہ ہے کہ ولایت کو ماننے والی، ولایت سے منسلک و مربوط جتنی بھی تنظیمیں ہیں، وہ سب ایک جگہ بیٹھیں اور آپس میں ملکر نئے سرے سے کام شروع کریں، تو خود ان تنظیموں کے مورال میں بھی اضافہ ہوگا اور ان سب کو دیکھ کر عوام کا مورال بھی بہتر ہوگا۔

اسلام ٹائمز: اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کا دوسرا مرکزی کنونش جاری ہے، اسکے قیام کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
انجینئر حسین شاہ موسوی: بنیادی طور پر یہ تنظیم کوئی نئی تنظیم نہیں ہے، ہم نے تقریباً اسّی (80) کی دہائی سے کام کرنا شروع کیا ہے، ہم سب پرانے افراد ہیں، تنظیموں کے اندر جو تھوڑے اختلافات ہوئے تو جدا ہوگئے، اصغریہ کا کام بنیادی طور پر ثقافتی، تعلیمی، تربیتی کام ہیں، جنہیں ہم نے اس وقت سے سندھ میں شروع کیا تھا، جب مساجد بھی نہیں ہوتی تھیں، حتٰی کہ کوئی نماز، نکاح، جنازہ پڑھانے والا بھی نہیں ہوتا تھا، اس دور سے ہم نے فعالیت شروع کی تھی، اب صورتحال کافی بہتر ہوگئی ہے، اب ہم نے جو اصغریہ علم و عمل تحریک کے نام سے کام شروع کیا ہے، اب ہم نے وسعت اختیار کرنا شروع کی ہے، دوسرے شعبہ جات میں بھی اب ہم عوامی سطح پر جا رہے ہیں، خاص طور پر عزاداری کے حوالے سے ہم نے بلڈ ڈونیشن کیمپس لگائے ہیں، تاکہ انسانی خدمات کے حوالے سے عزاداری کا کردار ادا ہو، ہم نے مثالی عزاداری و جلوس کے حوالے سے بھی آغاز کیا ہے، ہم نے مثال بنایا ہے اس جلوس کو جو نجف سے کربلا جاتا ہے، اس کی جو سادگی ہے، اس کی جو چیزیں ہیں، وہ ہم لانا چاہتے ہیں، عزاداری کے حوالے سے ہم پڑھے لکھے افراد کو خطیب بنانے کیلئے فعالت انجام دے رہے ہیں، جو بغیر کسی لالچ کے ہر جگہ پہنچیں اور اپنی ذمہ داری انجام دیں، اسی طرح سے صحت کے شعبہ کے حوالے سے بھی کام شروع کیا ہے، تعلیمی حوالے سے بھی کام شروع کیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہمارا نوجوان کم از کم یونیورسٹی کی سطح تک ضرور آئے، پھر اس کے بعد اعلٰی تعلیم کے حصول کیلئے اندرون ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی جائے، ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم جو یہ کہتے ہیں، دین مکمل نظام زندگی ہے، جو زندگی کے ہر شعبہ میں ہدایت اور رہنمائی دیتا ہے تو وہ آخر نظر بھی تو آئے، وہ ہے کہاں، وہ کیا اور کیسے رہنمائی اور ہدایت دیتا ہے، لہٰذا ہم نے اب صرف تعلیم و تربیت سے نکل باقی شعبہ ہائے زندگی میں بھی فعالیت انجام دینا شروع کر دی ہیں۔

 
Follow Us On:
share on facebook
share on twitter
share on google plus
print this
 
ہائر ایجوکیشن موٹیویشن اینڈ گائنڈنس پروگرام
اصغریہ پاکستان
قرآن کریم
Copyright © 2017 . جملہ حقوق محفوظ ہیں
Designed and Developed By: ICreativez