غالی توبہ بھی کرلے تو اہلبیت (ع) اسے قبول نہیں کرتے، لیکن مقصر کی توبہ قبول ہے


01/10/2018


غالی توبہ بھی کرلے تو اہلبیت (ع) اسے قبول نہیں کرتے،
لیکن مقصر کی توبہ قبول ہے


قَالَ الصَّادِقُ (عَلَيْهِ السَّلَامُ): احْذَرُوا عَلَى شَبَابِكُمْ الْغُلَاةَ لَا يُفْسِدُونَهُمْ، فَإِنَّ الْغُلَاةَ شَرُّ خَلْقِ اللَّهِ، يُصَغِّرُونَ عَظَمَةَ اللَّهِ، وَ يَدَّعُونَ الرُّبُوبِيَّةَ لِعِبَادِ اللَّهِ،
وَاللَّهِ إِنَّ الْغُلَاةَ شَرٌّ مِنَ الْيَهُودِ وَ النَّصارى‏ وَ الْمَجُوسَ وَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا.

ثُمَّ قَالَ (عَلَيْهِ السَّلَامُ): إِلَيْنَا يَرْجِعُ الْغَالِي‏ فَلَا نَقْبَلُهُ، وَ بِنَا يَلْحَقُ الْمُقَصِّرُ فَنَقْبَلُهُ.

فقِيلَ لَهُ:كَيْفَ ذَلِكَ، يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ
قَالَ: لِأَنَّ الْغَالِيَ قَدِ اعْتَادَ تَرْكَ الصَّلَاةِ وَ الزَّكَاةِ وَ الصِّيَامِ وَ الْحَجِّ، فَلَا يَقْدِرُ عَلَى تَرْكِ عَادَتِهِ، وَ عَلَى الرُّجُوعِ إِلَى طَاعَةِ اللَّهِ (عَزَّ وَ جَلَّ) أَبَداً، وَ إِنَّ الْمُقَصِّرُ إِذَا عَرَفَ عَمِلَ وَ أَطَاعَ. (الأمالي للطوسي، النص، ص: 651)

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
اپنے جوانوں کو غالیوں سے بچاؤ کہ وہ ان کو فاسد نہ بنا دیں۔بیشک غالی بدترین مخلوق ہیں، اللہ کی عظمت کو گھٹاتے ہیں اور اللہ کے بندوں کے لیے ربوبیت کے عقیدے کی دعوت دیتے ہیں۔
خدا کی قسم ! غالی تو یہود، نصاریٰ ، مجوس اور مشرکین سے بھی بدتر ہیں۔

پھر آپ نے فرمایا: غالی ہماری طرف لوٹ آئے تو ہم اسے قبول نہیں کرتے، لیکن اگر مقصر ہم سے آکر ملے تو ہم اسے قبول کر لینگے۔

آپ سے پوچھا گیا: اے فرزند رسول وہ کیسے؟
آپ نے فرمایا: غالی نے نماز، زکاۃ، روزہ اور حج کے ترک کرنے کی عادت اپنالی ہے اور وہ اپنی عادت ترک کرنے اور اللہ کی اطاعت کی طرف لوٹنے پر کبھی بھی قادر نہیں ہوتا۔
جبکہ مقصر کو جب معرفت ہو جائے گی تو اس پر عمل کرے گا اور اطاعت کرے گا۔

 
 
Follow Us On:
share on facebook
share on twitter
share on google plus
print this
 
ہائر ایجوکیشن موٹیویشن اینڈ گائنڈنس پروگرام
اصغریہ پاکستان
قرآن کریم
Copyright © 2017 . جملہ حقوق محفوظ ہیں
Designed and Developed By: ICreativez