اہلبیت (ع)کے متعلق غلو اور اہلبیت (ع) کے دشمنوں کانام لے کر عیب بیان کرنے والی روایات جعلی ہیں


01/10/2018


اہلبیت (ع)کے متعلق غلو
اور اہلبیت (ع) کے دشمنوں کانام لے کر عیب بیان کرنے
والی روایات جعلی ہیں


قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مَحْمُودٍ فَقُلْتُ لِلرِّضَا يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ إِنَّ عِنْدَنَا أَخْبَاراً فِي فَضَائِلِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع وَ فَضْلِكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ هِيَ مِنْ رِوَايَةِ مُخَالِفِيكُمْ وَ لَا نَعْرِفُ مِثْلَهَا عِنْدَكُمْ أَ فَنَدِينُ بِهَا فَقَالَ: يَا ابْنَ أَبِي مَحْمُودٍ لَقَدْ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ع أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ مَنْ أَصْغَى إِلَى نَاطِقٍ فَقَدْ عَبَدَهُ فَإِنْ كَانَ النَّاطِقُ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَقَدْ عَبَدَ اللَّهَ وَ إِنْ كَانَ النَّاطِقُ عَنْ إِبْلِيسَ فَقَدْ عَبَدَ إِبْلِيسَ ثُمَّ قَالَ الرِّضَا: يَا ابْنَ أَبِي مَحْمُودٍ إِنَّ مُخَالِفِينَا وَضَعُوا أَخْبَاراً فِي فَضَائِلِنَا وَ جَعَلُوهَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ أَحَدُهَا الْغُلُوُّ وَ ثَانِيهَا التَّقْصِيرُ فِي أَمْرِنَا وَ ثَالِثُهَا التَّصْرِيحُ بِمَثَالِبِ‏ أَعْدَائِنَا فَإِذَا سَمِعَ النَّاسُ الْغُلُوَّ فِينَا كَفَّرُوا شِيعَتَنَا وَ نَسَبُوهُمْ إِلَى الْقَوْلِ بِرُبُوبِيَّتِنَا وَ إِذَا سَمِعُوا التَّقْصِيرَ اعْتَقَدُوهُ فِينَا وَ إِذَا سَمِعُوا مَثَالِبَ أَعْدَائِنَا بِأَسْمَائِهِمْ ثَلَبُونَا بِأَسْمَائِنَا وَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَ‏ وَ لا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ‏۔ (عيون أخبار الرضا عليه السلام، ج‏1، ص: 304)

ابراہیم بن ابی محمود کہتا ہے میں نے امام رضا (ع) کی خدمت میں عرض کیا: اے فرزند رسول اللہ! ہمارے پاس آپ کے مخالفین سے فضائل علی (ع) میں اور آپ اہل بیت (ع) کے فضائل میں ایسی روایات مروی ہیں کہ ویسی روایات آپ (ع) سے نہیں ہیں۔ کیا میں ایسی روایات پر ایمان رکھوں؟

آپ (ع) نے فرمایا: اے ابن ابی محمود! میرے بابا نے اپنے بابا سے انہوں نے اپنی جد سے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: جس نے کسی بولنے والےکی طرف کان دھرا تو اس نے اس کی بندگی کی۔ اب اگر بولنے والا اللہ (ج) کی طرف سے بول رہا ہے تو اس نے اللہ(ج) کی عبادت کی۔ اگر بولنے والا ابلیس کی طرف سے بول رہا ہے تو اس نے ابلیس کی عبادت کی۔

پھر امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اے ابن ابی محمود! ہمارے مخالفین نے ہمارے فضائل میں روایات گھڑی ہیں اور انکی تین اقسام ہیں:

ایک)۔ ہمارے متعلق غلو پر مشتمل ہیں
دو)۔ ہماری تقصیر پر مشتمل ہیں۔
تین)۔ہمارے دشمن کے عیوب پر مشتمل ہیں

(یہ اس لیے گھڑی ہیں کہ: )
جب لوگ ہمارے غلو پر مشتمل جعل شدہ روایت پڑھیں گے کہ جن میں ہماری طرف ربوبیت کے عقیدے کی نسبت دی گئی ہے تو ہمارے شیعوں کی تکفیر کریں گے۔
اور جب لوگ ہمارے حق کو کمتر دکھانے والی جعلی روایات پڑھیں گے تو ہمارے متعلق وہی عقیدہ رکھیں گے۔
اور جب لوگ ہمارے دشمن کے عیوب پر مشتمل جعلی روایات دیکھیں گے کہ جن میں ہمارے دشمنوں کے نام لیے گئے ہیں تو ہمارے نام لیکر ہم سے عیب منسوب کریں گے۔جب کہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے: " مشرک اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کررے ہیں ان کو برا نہ کہو کیوں کہ وہ بغیر علم کے اللہ کو برا کہیں گے"۔ (انعام:108)۔

 
 
Follow Us On:
share on facebook
share on twitter
share on google plus
print this
 
ہائر ایجوکیشن موٹیویشن اینڈ گائنڈنس پروگرام
اصغریہ پاکستان
قرآن کریم
Copyright © 2017 . جملہ حقوق محفوظ ہیں
Designed and Developed By: ICreativez