شجاعت زينبيه حصہ اول


01/10/2018

شجاعت زينبيه
حصہ اول


(اس طرح مصائب پڑھنا چاہیں)
شہید کربلا مدینے سے اپنے ساتھ خاندان ہاشم سے کئی شخصیات لیکر کربلا آئے تھے۔ لیکن ان سب میں اپنی بہن زینب کبریٰ کو خصوصیت کے ساتھ لائے تھے۔ اسلیے کہ نہ صرف یہ عقیلہ بنی ہاشم ہیں بلکہ انہوں سے اپنے بابا سے شجاعت میراث میں لی تھی۔
اس بی بی کی اپنے بھائی حسین سے انتہا درجہ کی محبت تھی۔ ایک دن مدینہ میں آپ کو چادر پہنے اپنے گھر سے حسین کے گھر کی طرف جلدی جلدی جاتے دیکھا گیا۔ کسی نے پوچھا: بی بی کوئی مصیبت آئی ہے؟ بی بی نے کہا: ہاں مصیبت ہے، آج تیسرا دن ہے میں نے اپنے بھائی حسین کو نہیں دیکھا ہے۔
کربلا میں بی بی کی شجاعت حسین کے تمام ساتھیوں سے بلند نظر آتی ہے۔ کربلا میں مظلوم امام کے علاوہ تمام شہدا ءمل کر بھی بی بی کی شجاعت کا مقابلہ نہیں کرسکتے:
۔ ہمیں معلوم ہے کہ روز عاشور ہر شہید امام سے اجازت مانگتا تھا کہ پہلے میں شہید ہوں۔ کبھی سوچا ہے کہ اس کی وجہ کیا تھی؟ آخر کیوں ہر مجاہد پہلے شہید ہونا چاہتا ہے؟ انکو شہادت کی طمع نہیں ہے کیوں کہ شب عاشور شہادت کے ثواب کی ضمانت مل چکی تھی لیکن پھر بھی حسین کو چھوڑنا گوارا نہیں کیا تھا۔ جنت کی لالچ میں؟ نہیں جنت میں اپنے مقامات رات دیکھ چکے تھے۔ یہ تو سب دنیا کی ہر چیز سے دل توڑ کر حسین سے دل لگا چکے تھے۔ آخر کیوں ان میں سے ہر ایک سب سے پہلے میدان میں جانا چاہتا تھا؟ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ یہ اپنے محبوب حسین کے چہرے پر تکلیف کے آثار نہیں دیکھ سکتے تھے۔ جب کوئی شہید ہوتا تھا تو اپنے امام کے چہرے پر تکلیف کے آثار ان سے برداشت نہیں ہوتے تھے۔ ان میں حبیب ابن مظاہر جیسے بزرگ فقیہ بھی تھے ، شبیہ رسول اکبر اور حسین کے بھائی عباس بھی شامل تھے۔ ہر شہید کے بعد عباس آتے تھے اور عرض کرتے تھے مولا میرا سینہ تنگ ہوگیا ہے اب مجھے اجازت عطا کریں۔ یہ بہترکے بہتر امام کے چہرے پر تکلیف کے آثار برداشت نہیں کرپاتے تھے۔
۔ یہ بہتر وہ تھے جو امام کے چہرے پر تکلیف کے آثار نہیں دیکھ سکتے تھے، کیا پھران میں سے کوئی اپنے محبوب حسین کو اپنی نظروں کے سامنے شہید ہوتا دیکھ سکتا تھا؟ یہ انکی برداشت سے باہر تھا۔ لیکن شجاعت زینب یہ ہے کہ جب حسین زین سے زمین پر آتے ہیں تو یہ بی بی اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی۔ بی بی خیام کے سامنےایک اونچے مقام پر کھڑی تھی اور انکے سامنے عجیب منظر تھا۔ان کے سامنے ان کا بھائی حسین کربلا کی زمین پر تھا، جس کے سینے پر شمر سوار تھا، اس کے ایک ہاتھ میں خنجر تھا۔۔۔۔۔ یہ وہ منظر تھا جسکے دیکھنے کی طاقت عباس جیسے بہادر میں بھی نہ تھی۔ حبیب آؤ، اے علی اکبر تم بھی آؤ، عباس تم بھی آؤ دیکھو تو سہی جو منظر تم نہیں دیکھ سکتے تھے، دیکھو حسین کی بہن کیسے دیکھ رہی ہے، ہاں دیکھو یہ محمد کا دل لے کے آئی ہے علی کا جگر لے کے آئی ہے۔ بی بی نے عمر سعد کو ڈانٹ کر کہا: عمر سعد تو دیکھ رہا ہے اور تیرے سامنے فرزند رسول قتل ہو رہا ہے! جب کوئی جواب نہیں ملا تو بی بی نے ایک فریاد بلند کی ہے: اما فیکم مسلم! کیا تم میں کوئی مسلمان ہے؟۔۔۔
السلام علي الحسين
و علي علي بن الحسين
و علي اولاد الحسين
و علي اصحاب الحسين.

 
 
Follow Us On:
share on facebook
share on twitter
share on google plus
print this
 
ہائر ایجوکیشن موٹیویشن اینڈ گائنڈنس پروگرام
اصغریہ پاکستان
قرآن کریم
Copyright © 2017 . جملہ حقوق محفوظ ہیں
Designed and Developed By: ICreativez