(امام علی علیہ السلام کی سیاست کے اصول (دوسرا حصہ


05/27/2019

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام علی علیہ السلام کی سیاست کے اصول

(دوسرا حصہ)

کچھ نامور جاگیردار اور انکی دولت:

۱۔ عبد الرحمان بن عوف (وفات: ۳۲۔ ہجری)

کہا گیا ہے کی انکی دولت کا تخمینہ نہیں لگایا جاسکتا۔ ایک دفعہ خود ام المومنین ام سلمہ کے پاس گئے اور کہنے لگے مجھے ڈر ہے کہ کہیں میری دولت مجھےبرباد نہ کردے۔ (صالح دمشقی، سبل الهدی، ۱۴۱۴ق، ج۱۱، ص۳۷۸.)۔ انکے ایک ہزار اونٹ اور ۳۔ ہزار بھیڑ بکریاں اور ایک سو گھوڑےبقیع میں تھیں۔ انہون نے اتنا سونا میراث میں چھوڑا کہ کہ ہتھوڑوں سے کاٹ کاٹ کر لوگوں کے ہاتھ دکھنے لگے۔ ابن حجر نے فتح الباری میں انکا ترکہ۳۲۔ لاکھ سونے کے دیناربرابر لکھا ہے۔ امام احمد بن حنبل نے المسند میں لکھا ہے کہ: ایک دفعہ اسکے پاس مدینہ میں ۷۰۰۔ اونٹ انکا گندم اور آٹا لے کر آئے۔

۲۔ زبیر بن عوام (وفات: ۳٦۔ ہجری):

اسکے ۱۱۔ گھر مدینہ منورہ میں تھے ۲ گھر بصرہ میں تھے، ۱ گھر کوفہ میں اور ۱ گھر مصر میں تھا۔(ابن ابی شیبه، المصنف، ۱۴۰۹ق، ج۸، ص۷۱۷)۔ جب وفات ہوئی تو اسکی میراث میں ایک ہزار کنیزیں ایک ہزار غلام اور ایک ہزار گھوڑے تھے۔ نقد رقم میں انہوں نے ۵ ۔ کروڑ ۹ ۔لاکھ ۸۔ ہزار (سونے کے دینار یا چاندی کے درہم) چھوڑے۔ (فتح البارى، 6، ص 233.)۔ انکی زرعی زمینیں مصر، اسکندریہ، کوفہ اور بصرہ میں تھیں۔ عراق سے اسکی روزانہ آمدنی ایک ہزار دینار تھی۔(مسعودی، مروج الذہب ج۲ ص۳۳۳)

۳۔ طلحہ بن عبید اللہ (وفات:۳٦۔ ہجری)

انکی عراق میں موجود زرعی زمینوں سے سالانہ آمدنی ۴۔ لاکھ سے ۵۔ لاکھ سونے کے دینار تھی ۔( مروج الذهب، ج 2، ص )۔ سرات کے علاقہ کی زرعی آمدنی ۱۰۔ ہزار دینار تھی۔ انکی میراث ۳ ۔ کروڑ درہم تھی۔ جب اس کی وفات ہوئی تو اسکے خزانچی کے پاس نقد رقم ۲۰۔ لاکھ اور ۲۰۔ ہزار درہم موجود تھی۔ انکے پاس سونے سے بھرے ہوئے ایک سوقنطار تھے ۔ (بیل کی کھال کو بھر کر باندھا جائے تو اسے قنطار کہتے ہیں)۔ ہر قنطار میں ۳ ہزار رطل سونا تھا۔(ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۳، ص۱۶۶-۱۶۷)۔

۴۔ سعد بن ابی وقاص:

انکی میراث ۲۔ لاکھ ۵۰۔ ہزار درہم تھی ۔(ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۰۵ق، ج۳، ص۱۴۹.)

۵۔ عثمان بن عفان:

ابن سعد کہتا ہے: كان لعثمان ابن عفان عند خازنه يوم قتل ثلاثون ألف ألف ( الألف ألف هي المليون ) درهم و خمسمائة ألف درهم وخمسون ومائة ألف دينار ( الدرهم عملة فارس والدينار عملة الروم ) فانتهبت وذهبت ، وترك ألف بعير بالربذة۔ جس دن وہ قتل ہوئے تو انکے خزانچی کے پاس نقد رقم ۳۔ کروڑ ۵۰۔ لاکھ درہم اور ایک لاکھ دینار تھے۔ انکے ہزار اونٹ ربذہ میں تھے۔

(جاری ہے)

 

 
 
Follow Us On:
share on facebook
share on twitter
share on google plus
print this
 
ہائر ایجوکیشن موٹیویشن اینڈ گائنڈنس پروگرام
اصغریہ پاکستان
قرآن کریم
Copyright © 2017 . جملہ حقوق محفوظ ہیں
Designed and Developed By: ICreativez