(امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی حکومت کے سیاسی اصول (تیسرا حصہ


06/10/2019

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام 
کی حکومت کے سیاسی اصول
(تیسرا حصہ)

اوائل اسلام کےجن جاگیرداروں کی دولت کا ہم ذکر کر چکے ہیں انکے انتخاب کا سبب یہ ہے کہ یہ وہ افراد ہیں جن کو برادران اہل سنت نے عشرہ مبشرہ میں شامل کیا ہے، یعنی کہ کہا جاتا ہے کہ ان کے نام لیکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنت کی بشارت دی تھی۔ ان میں سے پانچ کی دولت کے وہ اعداد و شمار ہم نے لکھے ہیں جو معتبر کتب میں بیان ہوئے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی دولت انکے پاس کیسے آئی؟ اسی سوال کے ذیل میں تیسری خلافت کا دور کا ایک واقعہ ابن کثیر کی زبانی انکی تاریخ البدایہ و النہایہ کی جلد ۷ سے سن ۲۹ ہجری کے حالات سے نقل کرتے ہیں۔ ابن کثیر کا انتخاب ہم نے اسلیے کیا ہے کیونکہ سلفی اور وہابی حضرات انکی کتاب کو تاریخ میں معتبر تریں کتاب تصور کرتے ہیں:
غزوة افريقية 
امر عثمان عبدالله بن ابي سرح ان يغزو بلاد افريقية فاذا افتتحها الله عليه فله خمس الخمس من الغنيمة نفلا فسار اليها في عشرة الاف فافتتحها سهلها وجبلها وقتل خلقا كثيرا من اهلها ثم اجتمعوا على الطاعة والاسلام وحسن اسلامهم واخذ عبدالله بن سعد خمس الخمس من الغنيمة وبعث باربعة اخماسه الى عثمان وقسم اربعة اخماس الغنيمة بين الجيش فاصاب الفارس ثلاثة الاف دينار والراجل الف دينار قال الواقدي وصالحه بطريقها على الفي ألف دينار وعشرين الف دينار فاطلقها كلها عثمان في يوم واحد لآل الحكم ويقال لآل مروان۔
جنگ افریقہ:
عثمان نے عبد اللہ بن ابی سرح کو افریقی ممالک سے جنگ کے لیے امیر بنایا اور کہا کہ جب فتح ہوگی تو اسکے خمس کا پانچواں حصہ اسکو دوسروں سے زائد دیا جائے گا۔ وہ دس ہزار کا لشکر لیکر اس طرف چلا وہاں کے میدان اور پہاڑ فتح کیےاور وہاں کی کثیر مخلوق کو قتل کیا۔ پھر انہوں نے اطاعت اور اسلام قبول کیا اور انکا اسلام اچھا تھا۔ عبد اللہ نے خمس کا پانچواں حصہ خود لیا۔ باقی مال غنیمت کے چار حصے لشکر میں تقسیم کیے تو (دس ہزار کے لشکر میں سے) ہر سوار سپاہی کے حصہ میں تین ہزار دینار (روپیے میں70,141,575 یعنی سات کروڑ، ایک لاکھ، ایکتالیس ہزار پانچ سو پچہتر روپیے) آئے جب کہ پیادے کو ایک ہزار دینار (یعنی دو کروڑ، ۳۳ لاکھ ۸۰ ہزار ۵سو ۲۵ روپیے) ملے۔ واقدی کا کہنا ہے کہ: عبد اللہ نے عثمان سے منوایا کہ وہ مال غنیمت کے خمس میں سے صرف دو کروڑ بیس لاکھ دینار بھیجے گا، عثمان نے منظور کر لیا، اس نے وہ رقم عثمان کو بھیج دی۔ عثمان نے ایک ہی دن میں ساری رقم آل حکم میں تقسیم کردی کہا گیا ہے آل مروان میں تقسیم کی۔ (یہ دونوں بنی امیہ کے افراد ہیں)۔ 
(البدایہ و نہایہ:جلد۷۔ ۲۹ ہجری کے واقعات)
دوکروڑ بیس لاکھ دینار کی پاکستانی کرنسی میں رقم بنتی ہے ۔
514,371,550,000 
یعنی پانچ کھرب، چودہ ارب، سینتیس کروڑ، پندرہ لاکھ، پچاس ہزارروپیے۔ یہ پوری رقم ایک دن میں بنی امیہ کے آل حکم یعنی مروان کےباباجان یا کہا گیا کہ مروان کی اولاد میں تقسیم ہوئی۔ جبکہ بنی امیہ کا خمس سے کیا تعلق؟

یہ حکم اور مروان کون تھے؟
مروان بن حکم:
مروان بن حکم کا تعلق بنو امیہ کی دوسری شاخ بنی عاص سے تھا۔ حکم نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ حضور (ص) نے اس کو اور اس کے بیٹے مروان کو اس وجہ سے شہر بدر کر دیا تھا کہ وہ اپنی محفلوں میں ان کی نقلیں اتارتے تھے۔ حضرت عثمان نے اپنی خلافت میں اسے اور مروان کو واپس بلا لیا تھا۔ (بحوالہ خلافت و ملوکیت۔ مولانا مودودی) واپس بلاکر حضرت عثمان نے حکم کو ایک 
لاکھ درہم دینے کا حکم دیا اور انکے بیٹے مروان کو اپنا داماد اور سیکرٹری مقرر کیاتھا۔ حضرت عثمان کو اس پر بے حد اعتماد تھا۔ اس لیے مہر خلافت بھی اس کے سپرد کر رکھی تھی۔ جب آپ کے خلاف فسادیوں نے شورش پیدا کی تو حاکم مصر کے نام منسوب خط وغیرہ کی جعلسازی کی ذمہ داری بھی اس پر عائد کی جاتی ہے۔ شہادت عثمان کے بعد مدینہ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور معاویہ کے ساتھ جنگ صفین میں حضرت علی کے خلاف لڑا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی اس کے ہاتھوں ہوئی جو جنگ جمل میں اسی کی فوج کے سربراہ تھے۔ جبیر ابن مطعم سے روایت ہے کہ ہم لوگ پیغمبرِ اسلام کی خدمت میں حاضر تھے کہ ادھر سے حکم (مروان کا باپ) گزرا۔ اسے دیکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے صلب میں جو بچہ ہے اس سے میری امت عذاب اور پریشانی میں مبتلا ہوگی۔ (الآصابہ جلد 1 صفحہ 340) حضرت عبد الرحمان بن عوف سے روایت ہے کہ جب مروان پیدا ہوا تو مدینہ کے اس وقت کے رواج کے مطابق اسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ انہوں نے اسے دیکھ کر فرمایا یہ ملعون ابن ملعون ہے۔ (صواعق المحرقہ صفحہ 108)۔
بنی امیہ:
یہ قریش قبیلے کا ایک خاندان ہے۔ امیہ کا نام عبد الشمس بن عبد مناف تھا ۔ اس امیہ کے چار بیٹے تھے:
پہلا : ابی عمرو اس کا پڑپوتا ولید بن عقبہ تھا جسے قرآن مجید نے سورت حجرات آیت ٦ میں فاسق کہا ہے ۔ حضرت عثمان نے اسے کوفے کا گورنر بنادیا۔ اس نے وہاں شراب پی کر صبح کی نماز پڑھائی۔ کوفے والوں کے پرزور اصرار پر اسے معزول کیا گیا یہ مدینے پہنچا اور اس پر گواہوں نے گواہی دی۔ کوئی اسے سزا دینے کے لیے تیار نہیں تھا تو حضرت علی علیہ السلام نے اسے کوڑے مارے۔
دوسرا بیٹا: حر ب تھا جس کا بیٹا ابوسفیان تھا، معاویہ۔ اسی کا بیٹا تھا اسی ابو سفیان کی بیٹی ام المومنین حضرت ام حبیبہ ہیں۔ جو اپنے خاندان سے جدا ہوکر مسلمان ہوئیں تھیں ۔
تیسرا بیٹا: تیسرا بیٹا عاص تھا جس کا پوتا خالد بن سعید بن عاص تھا ۔
امیہ کا چوتھا بیٹا ابوالعاص تھا۔ اسی ابولعاص کے دو بیٹے ہوئے ایک عفان اور دوسرا حکم۔ عفان کے بیٹے حضرت عثمان تھے اور حکم کا بیٹا مروان تھا اس طرح مروان چچازاد بھائی ہوا عثمان کا۔
اسی حکم کی اولاد میں حضرت عثمان نے ایک ہی دن میں پانچ کھرب، چودہ ارب، سینتیس کروڑ، پندرہ لاکھ، پچاس ہزارروپیے تقسیم کیے تھے۔

عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح:
جس عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کو حضرت عثمان نے افریقا فتح کرنے بھیجا تھا اور مال غنیمت کے خمس کا پانچواں حصہ اسے انعام میں ملنا قرار دیا گیا تھا۔ جس سے بھی وہ مکر گیا اور تھوڑٕے پیسے ہی دیے اور حضرت عثمان نے اسی پر رضامندی ظاہر کردی، جس نے کثیر خلق خدا کو قتل کیا، اس کا حال بھی سن لیں:
یہ عبداللہ بن سعید بن ابی سرح حضرت عثمان کا رضاعی بھائی تھا۔ مسلمان ہواتو مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کاتبان قرآن میں شامل کردیا تھا۔ پھر یہ مرتد ہوکر بھاگ گیا اور مکہ میں اس نے کہنا شروع کیا کہ محمد مجھے کچھ کہتے تھے میں کچھ اور لکھ دیتا تھا اور محمد کو پتاہی نہیں چلتا تھا۔ اس کی مذمت میں آیات نازل ہوئیں: و من اظلم ممن افتری علی الله کذبا او قال اوحی الی و لم یوح الیه شیء۔ اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو خزا پر جھوٹ باندھے یا کہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے جب کہ اس پر نازل نہیں ہوتی۔ فتح مکہ کے موقعہ پر جن لوگوں کے قتل کا حکم رسول اللہ نے اس طرح دیا تھا کہ اگر کعبت اللہ کے غلاف میں چھپے ہوئے ملیں تو بھی انہیں قتل کردیں ان میں ایک یہ بھی تھا۔ لیکن اسے حضرت عثمان نے اپنے گھر میں چھپالیا اور کچھ دنوں بعد اسے نبی کے پاس لے آئے اور بہت مشکلوں سے معافی دلائی۔ 
بعد میں حضرت عثمان نے اے پورے مصر کا گورنر بنادیا تھا۔ اس کے ظلم سےوہاں کے لوگ مدینہ شکایت لےکر پہنچے اور حضرت عثمان کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔
(جاری ہے)

 
 
Follow Us On:
share on facebook
share on twitter
share on google plus
print this
 
ہائر ایجوکیشن موٹیویشن اینڈ گائنڈنس پروگرام
اصغریہ پاکستان
قرآن کریم
Copyright © 2017 . جملہ حقوق محفوظ ہیں
Designed and Developed By: ICreativez