علم اور قوموں کی ترقی


12/30/2017

بوعلی سینا جیسے انسان سے جب عالم دین بستر مرگ پر عیادت کرنے آتا ہے تو وہ اس سے سوال کرتے ہیں، عالم ان کو کہتا ہے کہ تم موت کے نزدیک ہو۔ بوعلی سینا کہتا ہے کہ "میرے لئے بہتر کیا سمجھتے ہیں کہ میں جان کر مروں یا انجان ہوکر مروں۔؟" حقیقت یہ ہے کہ علم انسان کی انسانيت میں اضافہ کرتا ہے، جو شخص علم حاصل نہیں کرتا، وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ آج ہماری صورتحال یہ ہے کہ ہم عام اوسط قیمت پر ووٹ فروخت کرتے ہیں، علم ہماری ترجیح نہیں ہے، اس لئے بھگت رہے ہیں۔

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: العلم سلطان، من وجده صال بہ من لم يجده صليه۔"علم بادشاہ ہے، جس نے اسے حاصل کیا، وہ چھا گیا، جس نے حاصل نہیں کیا اس پر دوسرے چھا جائیں گے۔" ہمارا ملک اس لئے پیچھے ہے کیونکہ ہمارے تعلیمی ادارے پیچھے ہیں، تعلیمی اداروں سے لوگوں کا فائدہ نہیں ملتا، وہاں سے اچھے افراد نہیں نکلتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک کو ایک بہتر ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتے ہیں تو اس کا دارومدار علم پر ہے، دنیا کی طاقت اور قوت  کا معیار علم پر ہے۔ حضرت امام علی (ع) فرماتے ہیں کہ علم ایک بادشاہ ہے، انسان ایک بادشاہ نہیں ہے، لیکن حقیقت میں علم ایک بادشاہ ہے، علم بادشاہ ہے، جس نے اسے حاصل کیا، وہ چھا گیا، جس نے حاصل نہیں کیا، اس پر  دوسرے چھا جائیں گے۔ دنیا بھر کی ترقی کا راز علم میں  ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں کا دارومدار علم پر ہے۔ اس لئے انسان کی قدر اور قیمت بھی علم کی وجہ سے ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے عرب کے ماحول میں ہر قسم کی برائی موجود تھی، انسانی حقوق سلب تھے، انسان غلام، اقتصادیات ابتر، اور عورتوں کا احترام نہیں کیا جاتا تھا۔ کفر، شرک اور بت پرستی عام تھی۔ اسلام نے اس دور کو "جاہلیت کا دور" کہا ہے۔ آخر اسلام نے اس دور کو غلامی یا شرک یا دوسری برائی کا دور کیوں نہیں کہا؟ اللہ کی نظر میں تمام برائیوں کی بنیاد جہالت ہے۔ رسول اکرم (ص) اس ماحول کو تبدیل کرنے آئے۔ آپ نے انقلاب کا آغاز کس نقطے سے کیا؟ قرآن کریم کی پہلی آیت نازل ہوئی ہے، "پڑھ اپنے رب کے نام سے۔"

اس انقلاب کا آغاز  پڑھنے سے ہوا ہے، اس اعلان میں پہلے علم ہے، پھر اللہ۔ علم نہیں ہوگا تو رب کس طرح معلوم ہوگا۔مذہب کی نظر میں ہر برائی کی جڑ جہالت ہے، ترقی علم سے ہوگی۔ جہالت گہرے کنوے میں پہنچا دے گی جبکہ علم معراج پر پہنچائے گا۔ دین اسلام  میں علم حاصل کرنا فرض ہے۔ اسلام میں ہر عورت و مرد پر علم حاصل کرنا واجب ہے، علم حاصل نہ کرنا جرم ہے، جس کی سزا ہے۔ امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: "میں اس چیز کو پسند کرتا ہوں کہ میرے اصحاب کے سروں پر کوڑے مارے جائیں کہ وہ علم حاصل کریں۔" مذہب کا کہنا ہے ہم سزا دیں گے مگر جاہل نہیں رہنے دیں گے۔ اگر کوئی جہاد کے میدان سے بھاگ جائے تو وہ بھاگنے والا ہے، مگر جو علم کے میدان کو چھوڑ دے، وہ بھی میدان جنگ سے بھاگنے والے سے کم نہیں ہے۔ پاکستان میں بہت کم فیصد افراد کو یونیورسٹیوں تک رسائی حاصل ہے، طالب علموں کو یونیورسٹیز تک پڑھنے کیلئے بھیجیں۔ قوم کو تاریکی سے نکالیں۔ علم نور اور روشنی ہے۔ علم ہے تو زندگی آسان ہے، جاہل انسان کیلئے برائی اور بھلائی میں فرق کرنا مشکل ہے۔

ہمارے معاشرے میں بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور بیٹیوں کو نہیں پڑھاتے۔ والدین کہتے ہیں: "بیٹا  کما کر دے گا، بیٹی کیا دے گی؟ ایسا لگتا ہے کہ ہم والدین نہیں بلکہ سرمایہ دار ہیں، ہم بیٹے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں، تاکہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں گے، مگر بیٹیوں پر خرچ نہیں کرتے۔ افسوس ہماری نظر بچوں پر شفیق باپ کی نہیں بلکہ سرمایہ دار کی طرح ہے۔ ہماری نظر اولاد پر مہربان باپ والی نہیں مگر لالچ والی ہے۔ تعجب کی بات ہے ہم بیٹیوں کو نہیں پڑھاتے کہ وہ خراب نہ ہو جائیں، کیا بیٹے برے نہیں ہوسکتے؟ ہمارے معاشرے میں بیٹوں کے خراب ہونے کے امکانات زیادہ ہیں، نہ کہ بچیوں کے۔ لڑکیوں کو نہ پڑھانا انسانی سوچ نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں علم حاصل کرکے روشنی حاصل کرنا کم اور نوکری حاصل کرنا زیادہ اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علم کا مقصد اس کے وجود کو روشن کرنا نہیں ہے۔ یہ ہماری غلطی ہے کہ ہم پیسوں میں علم کو ناپتے  ہیں۔ ہمیں علم حاصل کرنا چاہئے، تاکہ ہم اپنے آپ کو کمال تک پہنچا سکیں اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرسکیں۔ سماجی ترقی کے بارے میں سوچیں۔

انبیاء اور امام کس لئے آئے۔؟ وہ معلم اور اساتذہ تھے، نبی معاشرے کا استاد ہے۔ انسان جب تک زندہ ہے، طالب علم ہے۔ جو شخص گود سے گور تک طالبعلم نہیں رہتا، وہ نبی کا امتی نہیں ہے۔ ہمارا انبیاء اور آئمہ سے تعلق طالبعلم والا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ پیدائش سے وفات تک علم حاصل کرتے رہیں۔ بوعلی سینا جیسے انسان سے جب عالم دین بستر مرگ پر عیادت کرنے آتا ہے تو وہ اس سے سوال کرتے ہیں، عالم ان کو کہتا ہے کہ تم موت کے نزدیک ہو۔ بوعلی سینا کہتا ہے کہ "میرے لئے بہتر کیا سمجھتے ہیں کہ میں جان کر مروں یا انجان ہوکر مروں۔؟" حقیقت یہ ہے کہ علم انسان کی انسانيت میں اضافہ کرتا ہے، جو شخص علم حاصل نہیں کرتا، وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ آج ہماری صورت حال یہ ہے کہ ہم عام اوسط قیمت پر ووٹ فروخت کرتے ہیں، علم ہماری ترجیح نہیں ہے، اس لئے بھگت رہے ہیں۔ وہ علم جو سماج کے لئے اچھا ہے، واجب ہے، لیکن وہ علم جو معاشرے کے مفاد میں نہیں ہے، حرام ہے۔ قرآن پڑھنے میں بھی ثواب ہے اور فزکس پڑھنے میں بھی ثواب ہے۔ دینی علم اور غیر دینی علم کی وراثت درست نہیں ہے۔ علم علم ہے، قرآن اس لئے پڑھیں کہ پڑھ کر کمائیں گے، یہ غلط اور غیر مذہبی ہے۔ لیکن میڈیکل یا ڈاکٹری اس لئے پڑھی جائے کہ پڑھ کر غریبوں کی خدمت کروں گا تو یہ ایک اچھا طریقہ ہے۔

 
 
Follow Us On:
share on facebook
share on twitter
share on google plus
print this
 
ہائر ایجوکیشن موٹیویشن اینڈ گائنڈنس پروگرام
اصغریہ پاکستان
قرآن کریم
Copyright © 2017 . جملہ حقوق محفوظ ہیں
Designed and Developed By: ICreativez